کاروار:8؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز) کورونا کی دوسری لہر کے دوران اعلان کئے گئے خصوصی پیکیج کےلئے فوری امداد کی منظوری سمیت مختلف مطالبات لے کر جونئیر ڈاکٹروں نے کریمس کے صحن میں دھرنا دیا۔
شہر کے کاروار سائنسی مرکز (کریمس) کےصحن میں جمع ہوئےجونئیر ڈاکٹر، میڈیکل پوسٹ گریجویٹ ہولڈرس اور انٹرنر نے مختلف تختیوں کو تھامے اپنے مطالبات کو پیش کیا۔ حکومت کی جانب سے کورونا کی دوسری لہر کےدوران کووڈ سنٹروں میں خدمات انجام دینےو الوں کو فی ڈاکٹر 10ہزارروپیوں کا خصوصی پیکیج دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ کئی مہینےبیت گئے ابھی تک رقم کھاتوں میں جمع نہیں ہوئی ہے۔ محکمہ صحت کے عملہ نے پچھلے ایک سال سے وبائی مرض کورونا کی روک تھام کےلئے ان تھک محنت کی ہے۔ حکومت اور عوام نے ’’کورونا واریئیرس ‘‘ سے نوازتے ہوئے ستائش بھی کی۔ جونئیر ڈاکٹروں نے مخلصانہ خدمات انجام دی ہیں۔ کووڈ بھتہ اداکرنے کےلئے حکومت کو کئی مرتبہ پیش کش کی جاچکی ہے، کرناٹکا ڈاکٹرس سنگھا کے نمائندوں نے محکمہ صحت کے وزیر اور اعلیٰ افسران سےملاقات کرتےہوئے منظوری کےلئےدباؤ بھی ڈالا ۔ لیکن ان سب محنتوں کے باوجود ابھی تک کوئی فائدہ نہیں ہواہے۔ اسی لئے حکومت کو متوجہ کرنے کےلئے جونئیر ڈاکٹروں نے ایک روزہ احتجاج کا اہتمام کیا ہے۔ ایمرجنسی اور کورونا مریضوں کو کوئی تکلیف یا پریشانی نہ ہوں اس کاخیال رکھتےہوئے احتجاج میں شریک ہوئےہیں۔ ہماری مانگیں جب تک پوری نہیں ہونگی تب تک مختلف سطحوں پر جدوجہد جاری رکھنےکی ڈاکٹروں نے جانکاری دی ۔
کیا ہیں مطالبات ؟:کئی مرتبہ درخواست دینے کے باوجود میڈیکل فیس میں بھاری اضافہ کیاگیا ہے، اس کو واپس لیاجائے۔ سال 2021-22میں طلبا کا زیادہ تر وقت کووڈ مریضوں کی دیکھ بھال میں ہی گزرا ہے، کلاسس اور پراکٹیکل نہیں ہوئےہیں تو ایک سال کی فیس رد کی جائے۔ فیس طئے کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔ ایم بی بی ایس کے بعد جونئیر ڈاکٹر اور انٹرنر س کو وقت پر تنخواہیں ادا کرنےکا احتجاجیوں نے مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر ہیمنت راجو، ڈاکٹر ایشوریا، ڈاکٹر ابھینیا، ڈاکٹر شری دھر، ڈاکٹر چیتن سمیت کئی ڈاکٹرس موجود تھے۔